• صارفین کی تعداد :
  • 3216
  • 5/19/2012
  • تاريخ :

اشاعت اسلام کے مرکزي ايشيا پر اثرات ( حصّہ سیزدہم )

بسم الله الرحمن الرحيم

ابو علي سينا نے طبّ اور فسلفہ ميں بہت سي کتابيں لکھيں ہيں  اس کے مکتوب آثار ميں سے طب کے موضوع پر ”‌قانون علم طب“ کے نام سے ايک کتاب ہے کہ جس کا بارہويں صدي عيسوي ميں لاتيني زبان ميں ترجمہ ہوا جو فيزيکس کے عالموں کے لئے بہت مفيد ثابت ہوئي ہے اوروہ اس سے ہميشہ استفادہ کرتے ہيں اور يہ کتاب بہت مشہور ہے

محمد بن موسيٰ خوارزمي جيسا کہ اس کي کتاب کے نام الجبر سے معلوم ہوتا ہے، وہ عرب ميں علم حساب کا موجد ہے، وہ فقط نہ ايک حساب دان تھا بلکہ ايک منجم اور جغرافي دان بھي تھا، اس کے آثار، جبر ہندسي اور يوناني ہندسہ کا مجموعہ ہے جو آج علم حساب کي بنياد سمجھي جاتي ہے- محمد بن موسيٰ خوارزمي نے صديوں کے لئے خوارزميوں کے روايتي اور قديمي علم حساب کو بہت سي ضرورتوں کو پورا کرنے لئے جيسے آپاشي، سياحت، تجارت اور معماري ميں کہ جو زيادہ تر يوناني اور ہندي تہذيب سے متاثر تھي قابل استفادہ بنايا

عباسيوں کے دورہ حکومت ميں عربيوں کي حاضري بہت جلد ختم ہوگئي ليکن اس علاقہ کي سلطنت خراسانيوں کے قلمروئے قدرت ميں باقي رہي، اسي وجہ سے اس علاقہ ميں ابھي ايرانيوں کا نفوذ زيادہ تھا-

مرکزي ايشيا ميں سب سے پہلے مسلمانوں کي مستقل حکومت ساسانيوں کي تھي کہ جو سن 875 عيسوي ميں ايک ايراني النسل شخص کے ذريعہ وجود ميں آئي اس نے اپني حکومت کا مرکز، بخارہ کوقرارديا، ساساني بادشاہت نے اپني حکومت کے عروج ميں ماوراء النہر، خوارزم اور ايران وافغانستان کے ايک وسيع علاقہ پر حکمراني کي- ساساني حکومت کي داغ بيل ڈالنے والا اسماعيل بن احمد تھا کہ جس کي حکومت سن 875 عيسوي سے 999 ء تک تھي، ساسانيوں نے ايک حد تک يوروپ اور چين کے ساتھ تجارتي روابط کو وسعت بخشي اسي لئے شاہ راہ ريشم اسي دوران وجود ميں آئي، ساساني حکومت نے اس علاقہ يعني ماوراء النہر، خوارزم، سيردريا، ايران اور افغانستان کي تاريخ ميں بہت بڑا کرادار ادا کيا، اس دوران فارسي اور تاجيکي زبان کو فروغ ملا اسي وجہ سے يہاں پر بڑے بڑےشعراء جيسے رودکي اور فردوسي نے اپنے تاريخي آثار کو تحريري شکل عطا کي، ليکن عربي زبان نے ايک علمي زبان ہونے کے عنوان سے اپني حيات کو ادامہ ديا-