• صارفین کی تعداد :
  • 718
  • 2/1/2012
  • تاريخ :

محاورہ ما بين خدا و انسان

فارسی

نظم کا عنوان ہے " خدا "

 براۓ مہرباني اس نظم کو زباني ياد کريں -

جھان را از يک آب و گل آفرديدم

تو ايران و تاتار  و زنگ آفريدي

من از خاک ، پولاد ناب آفريدم

تو شمشير و تير و تفنگ آفريدي

تير آفريدي نھال چمن را

قفس ساختي طاير نغمہ زن را

 اردو ترجمہ :

*خدا فرماتا ہے ميں نے اس دنيا کو پاني اور مٹي سے بنايا -

* اے انسان تو نے اس دنيا ميں ايران ، تاتار اور حبشہ ( يعني مختلف ملک ) بنا ديۓ -

* ميں نے اس مٹي سے خالص لوہا پيدا کيا -

* اور تو نے اس سےتلوار ، تير اور بندوق بنا ديۓ

*اسي لوہے سے تو نے اس باغ کے پودوں کے ليۓ کلہاڑي بنائي اور گيت گانے والے پرندوں کے قفس بناۓ -

 

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

خانه اجاره اي