متعلقه تحریریں
  • رومی کا روحانی سفر
    رومی کا روحانی سفر
    رومی کی روحانی زندگی کو جاننے کے لیۓ ہم ان کی شاعری سے مدد لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے روحانی سفر کی حقیقت اور روحانیت سے ان کی آشنائی کو ظاہر کرتی ہے ۔ ان کے چند اشعار کا ترجمہ پیش خدمت ہے ۔
  • مولانا رومی پر مختصر نظر
    مولانا رومی پر مختصر نظر
    دنیا میں بہت ہی کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انسانیت کی سربلندی کے لیۓ اور فلاح کے راستے کی تلاش میں اپنی پوری زندگی قربان کر دیتے ہیں ۔
  • رومی کے حالات زندگی
    رومی کے حالات زندگی
    رومی ۱۲۰۷ء میں بلغ کے شہر میں پیدا ہوئے ۔اس وقت تمام ایشیا سماجی و سیاسی اور عسکری نقصانات برداشت کر رہا تھا۔
  • صارفین کی تعداد :
  • 7329
  • 9/23/2011
  • تاريخ :

حضرت مولانا رومي کا عشق الہي

حضرت مولانا رومی  کا مزار

مولانا جلال الدين روم کو خدا تعالي سے بےحد محبت تھي اور ان کا عشق الہي ايک شعلہ فشاں ولولہ تھا  جو اللہ تعالي کي معرفت کے حصول کے ليۓ دن رات کوشاں رہتا تھا - رومي  عشق ا لہي  کے اس روحاني  جذبے کو اپني خلوت نشيني اور اپنے زہد اور تقوي کو معاشرتي زندگي ميں بروۓ کار لاتے تھے - 

انہوں نے خدا سے وصل کے ليۓ تنہائي اور خلوت اختيار کي تاکہ اللہ تعالي کا قرب ممکن ہو - اس کام ميں وہ بےحد مستقل مزاج رہے - انہوں نے کبھي بھي  بے صبري کا مظاہرہ نہ کيا - رومي کے مطابق جولوگ اللہ تعالي سے حقيقي عشق کرنے کي تعليم ديتے ہيں وہ ہميشہ اپنايہ عہد ياد رکھيں کہ وہ شعلہ فشان جذبات کے ساتھ اللہ سے محبت کرتے ہيں  - يہ وہ گراں قيمت ہے جو ہر باوفا عاشق اللہ کے عشق ميں فنا حاصل کرنے کے ليے ضرور ادا کرتا ہے - مزيد انہيں ايسے بلند پايہ اخلاق اور روحاني رويوں ميں سرمست رہنا چاہيے کہ وہ کم خور و کم خواب ہوں اور اپني گفتگو ميں ہميشہ رب تعالي کي طرف مکمل طور پر متوجہ رہيں -اورجب ايسا مرد کامل خدا کے عشق ميں فنا ہو کر لازوال نعمت عشق حاصل کرتا ہے تو وہ لازمي طور پر حيران کن روحاني تجربات سے گزرتا ہے-

رومي کي نظر ميں ايک عاشق کو غفلت کي نيند نہيں سونا چاہيں  کيونکہ اس کي يہ نيند محبوب کو ناگواز گزر سکتي ہے اس ليۓ محبوب سے ملاقات کے وقت عاشق کو ہمہ وقت بيدار رہنا چاہيۓ - جيسا کہ خدا تعالي نے حضرت داود کو ہدايت فرمائي -

" اے داود جولوگ ميرے دائمي ذکر سے غافل ہو کر سوتے ہيں اور پھر مجھ سے محبت کا دعوي کرتے ہيں ، وہ جھوٹے ہيں -"

مولانا رومي کا کہنا ہے کہ

" جب رات شروع ہوتي ہے عاشق اللہ سے بہت ہي شديد محبت کي وجہ سے بيدار اور ہوشيار ہو جاتا ہے -"

رومي کے دعوے زباني نہيں تھے بلکہ اس نے اپنے اعمال  سے اپنے دعوğ کي تائيد کرکے دکھائي -

 ان کے مندجہ ذيل اشعار کا ترجمہ اس بات  کي مزيد وضاحت کرتا ہے -

* ميراٹوٹا ہوا غريب وناتواں دل دشت محبت ميں مجنوں کي طرح  ہے -

جس کے جسم کا انگ انگ فنا ہو چکا ہے-

مجھ ميں خدا کي محبت کا حق ادا کرنے کي طاقت نہيں ہے

ہر صبح وشام ميں نے محبت کي زنجيروں کي گرفت سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کي کوشش جاري رکھي ہے-

وہ زنجير جس نے مجھے قيد ميں ڈال رکھا ہے-

جب محبوب کے خواب شروع ہوتے ہيں،ميں اپنے آپ کو لہو لہو پاتا ہوں -

کيونکہ ميں مکمل طور پرہوش وحواس ميں نہيں ہوں-

مجھے خدشہ ہے کہ ميں اپنے محبوب کو اپنے خون دل سے رنگين کردوں-

حقيقت ميں اے محبوب حقيقي!توحوروں کو لازمي حکم دے کہ وہ ضرورجان سکيں کہ ميں تمام رات کيسے جلتا ہوں-

ہرکوئي آرام کي نيند سو چکا ہے -

مگر ميں وہ ہوں جس نے اپنا دل تيرے حضور پيش کيا ہے-

غافلوں کي طرح سونا پسند نہيں کيا-

تمام رات ميري آنکھيں آسمان کي طرف تکتي ہيں-

ستاروں کوگنتي ہيں -

محبوب کي شديد محبت نے ميري نيند کو مکمل طور پر اپني گرفت ميں لے رکھا ہے- ميں يقين نہيں کرتا کہ وہ دوبارہ کبھي آئے گي-''

 رومي کے کلام سے عشق ومستي ،محبت شديد اورعقيدہ وحدت الوجود کي توانائي معصوم و منتظر آہيں اورسسکياں ،تمنائے ديدارمحبوب اورملاقات رب ودود کے سچے جذبات ظاہر ہوتے دکھائي ديتے ہيں -

رومي کو اپنے جذبہ عشق پر يقين کامل تھا اور انہوں نے تمام عمر عشق و مستي کا اظہار کيا - انہيں يقين تھا کہ وہ خدا کو محبوب ہيں - ان کي قربت ميں بہت سي  پاک ہستياں بھي موجود ہوا کرتي تھيں - وہ يقين رکھتے تھے کہ وفا کي حساسيت کے ليے ناگرير ہے کہ وہ جام محبت جو ان کو رب کي جانب سے انہيں پيش کيا جاتا تھا -وہ جام محبت اپنے تمام حلقہ احباب کو پيش کريں -

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

امير کبير کي خدمات ( حصّہ دوّم )

امير کبير کي خدمات

مصطفي زماني کي زندگي پر مختصر نظر

وحشي بافقي يزدي

عنصري

قارئین کی تازہ ترین آراء
شناخت نہیں ہو ئی
ڪاش مولانا رومی جی پیرن مٽی جی برابر اسان کی ڪری تڏهن به اسان جی وڏی خوشنصیبی آهی ڪاش اسان مولانا رومی جی زندگی جی پیروی ڪندی هن دنیا ۾ هلون ته هی دنیا جنت بڻجی وڃی پر اڄ اسین نفس جا ماریل آهیون نفس کی خوش ڪرڻ جی لاءِ الائی ڇا ڇا ڪیون پیا جیڪا اسان جی لاءِ وڏی تباهی آهی ۽ تباهی کانسواءِ ٻیو ڪجهه به ناهی.......
تبیان کا جواب :

 آپ نے درست فرمایا ہے کہ مولانا روم ایک عطیم شخصیت تھے جن کی پیروی سے انسان بےشمار کامیاں حاصل کرکے اپنی زندگی کو آسان بنا سکتا ہے ۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ مولانا روم جیسی عظیم ھستی کے خیالات کو عوام میں اجاگر کیا جاۓ ۔  آپ نے  تحریر کو پسند کیا اور ہمیں اس بارے میں اپنی راۓ سے آگاہ کیا ۔ ہم آپ کے بےحد مشکور ہیں ۔ آئندہ بھی ہم آپ کی قیمتی آراء کے منتظر رہیں گے ۔ شکریہ 
منگل 31 جولائی 2012