• صارفین کی تعداد :
  • 2162
  • 4/24/2011
  • تاريخ :

فلسفہٴ قربانی (حصّہ چهارم)

بسم الله الرحمن الرحیم

تو افعالِ ارادی تو سب عمل میں آگئے۔ اب حکم منسوخ ہو کر کیا کرے گا؟ تو یہ عقلی بات ہوگئی کہ یہ تصور غلط ہے کہ حکم منسوخ ہوگیا۔ حکم منسوخ کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں حکم لفظی تو نہیں تھا کہ فرشتے نے آکر پیغام زبانی لفظوں میں پہنچایا ہو۔

یہاں تو حک بذریعہ خواب تھا۔ تو خواب دیکھئے کیا تھا؟ خواب یہ دیکھا ہوتا کہ میں بیٹے کو ذبح کرچکا ہوں تو عمل میں کچھ رہ گیا؟ اب خواب یہی دیکھا تھا کہ ذبح کررہا ہوں تو جو خواب دیکھا تھا، وہ عمل میں پورے طور پر لے آئے۔ اب اور حکم کہاں تھا جو منسوخ ہوگا؟ اب تیسری بات صاف طور پر قرآن سے پوچھوں کہ صدا کیا آئی؟ تو قرآن یہ کہہ رہا ہے، یہ نہیں کہتا کہ ہم نے پکار کر کہا کہ بس بس۔ اب ہم اپنا حکم اٹھاتے ہیں۔ جی نہیں۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ ادھر سے یہ آواز آئی کہ بس بس! تم نے خواب سچ کر دکھایا۔ یعنی جو حکم تمہیں ملا تھا، اس کی تعمیل تم نے کردی۔

جناب! دلیل وہ ہوتی ہے جو قطعی ہو اور بہت مستحکم ہو۔ کہاجاتا ہے کہ جنابِ ابراہیم نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی تھی۔ اسے مصائب ِ کربلا کے ساتھ موازنہ میں پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بے شک یہ قربانی پیش کی مگر محبت ِفرزند کی بناء پرآنکھوں پر پٹی باند لی تھی۔ میں کہتا ہوں کہ مجھے اس واقعہ سے انکار کی ضرورت نہیں ہے۔ پٹی باندھ لی ہو تو کیا ہے؟ جو حکم ہوا تھا، اس کی تعمیل کیلئے آئے ہیں۔ اسلام دلوں سے آل اولاد کی محبت نکالنے کیلئے نہیں آیا ہے۔ یہ محبت بھی جزوِ اسلام ہے۔

لہٰذا اگر بیٹے ہی کی محبت میں آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہو تو حکم کی تعمیل میں اس سے کیا اثر پڑتا ہے ۔

 بہرحال اگر یہ واقعہ صحیح ہے ، اگرچہ مستند ماخذوں میں میری نظر سے نہیں گزرا ہے، اس لئے یہ اگر مگر کررہا ہوں۔ بہرحال یہ چیز جو میں نے بھی سنی ہے اور آپ نے بھی سنی ہوگی، اگر یہ بالکل صحیح ہے تو میں کہتا ہوں ، اب اس کو چاہے محاورہ کے طور پر دیکھ لیجئے، عقلی طور پر دیکھ لیجئے، اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو نتیجہ کو دیکھتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ کردارِ ابراہیم اور شاندار ہوگیا۔ اس لئے کہ انہوں نے تو آنکھ بند کرکے چھری چلائی ہے۔ اب کون ذبح ہوا؟ اس کی ذمہ داری ان پر نہیں ہے۔

ارشاد ہورہا ہے :

"یَااِبْرَاہِیْمُ قَدْصَدَقْتَ الرُّوْیَاء"۔

اصل بیانِ واقعہ میں تو اتنا اختصار ہوا تھا مگر اب یہاں قرآن مجید بسیط و تفصیل سے کام لے رہا ہے کہ ہم نے اس کا فدیہ دے دیا، ذبح عظیم کے ساتھ۔ ذبح عظیم کو ہم نے اس کا فدیہ قرار دے دیا۔تو اب مشکل یہ ہے کہ فدیہ میں کیا آتا ہے؟ وہ ہمیں معلوم ہے کہ کیا تھا۔ وہ گوسفند تھا۔ تو اب علمائے جمہور، بڑے بڑے اکابر علماء خواہ علامہ فخر الدین رازی ہوں، حافظ طبری ہوں، علامہ نیشاپوری ہوں، خوا ہ کوئی ہوں، بڑے بڑے علماء۔ دل میں خلش ہے کہ ذبح ہوتا تو نبی زادہ اور آئندہ ہونے والا نبی۔ فقط نبی زادہ نہیں بلکہ وہ جو سلسلہ انبیاء میں ہے، وہ ذبح ہونے والا ہے اور جو چیز فدیہ میں آئی ہے ، وہ ہے گوسفند۔ تو گوسفند کو اللہ اس کے مقابلہ میں ذبح عظیم کہہ دے۔ ذہن میں آتا ہے کہ گویا اتنا عظیم نہیں تھا اور ہم نے اس کا فدیہ جو قرار دیا، وہ ذبح عظیم ہے۔ تو اب گوسفند کو ان کے مقابلہ میں عظیم کہا جارہا ہے۔

اب اس کیلئے یہ بیچارے مفسرین اس گوسفند کی عظمت دکھاتے ہیں اور اس کی عظمت کے اظہار میں مصروف ہوگئے ہیں کہ وہ گوسفند جنت کا تھا اور وہ کوئی ہزار برس سبزہ زارِ جنت میں چرتا رہا تھا اور وہاں اس کی پرورش ہوئی تھی۔اس کو غذا جنت کی دی گئی تھی۔ وہ ایسا تھا ، اس لئے اس کو خالق نے ذبح عظیم کہہ دیا۔ مگر ان اکابرین مذہب اور علماء سے میرا یہ سوال ہے کہ جناب! وہ جنت کا تھا اور جنت کے میوے کھاتا رہا اور جنت کے سبزہ زار میں چرتا رہا، اس سب کے باوجود وہ گوسفند ہی رہا۔ تو پھر سوال تو باقی رہا کہ نبی زادے کے مقابل میں اسے ذبح عظیم کہہ دیا گیا؟یہ ایک پریشانی ہے اور ان بیچاروں کی پریشانی کے دور ہونے کا کوئی سامان نہیں ہے کیونکہ ان کے جتنے واری ہیں، وہ اس سے آگے بڑھتے ہی نہیں۔ اب ہمیں بھی بہرحال پریشانی تو ہونی چاہئے تھی لیکن ہماری پریشانی اپنے ہاں کی تفسیر کو دیکھ کر دور ہوگئی جو آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے وارد ہوئی ہے کہ ذبح عظیم سے مراد قربانیِ کربلا ہے۔ اب وہ خلش تو دور ہوگئی۔

دوسرے مسلمان چاہے نہ چاہتے ہوں کہ انبیاء کے مقابلہ میں اور ہستیاں بھی افضل ہوسکتی ہیں مگر ہم تو بحمدللہ مانتے ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اور ہستیاں نہیں جو خاتم الانبیاء کے اجزاء ہیں، وہ گزشتہ انبیاء سے افضل ہونے چاہئیں۔

لہٰذا ہمارا دل بالکل قبول کرلیتا ہے کہ بے شک وہ نبی ہیں اور نبی زادے میں سب کچھ ہے۔ لیکن یہاں "سَیِّدَاشَبَابِ اَہْلِ الْجَنَّۃ" میں اور ان کی قربانی ہے اور حدیث متفق علیہ ہے "سَیِّدَاشَبَابِ اَہْلِ الْجَنَّۃ" ۔ یہ بھی صحاحِ ستہ کی حدیث ہے۔ تو اب دبی زبان سے ان علماء سے جو اس میں تامل کرتے ہیں کہ انبیاء سے کیونکر افضل ہوسکتے ہیں، ان سے میں بس ایک سوال کروں گا کہ انبیاء بھی اہل جنت میں ہیں یا نہیں؟ بس اس سرداری کے دائرے سے بقائدئہ عقل ایک تو متکلم خارج ہوگا جو اس سرداری کا تاج پہنارہا ہے، وہ متکلم خارج ہوگایا بس وہ جسے وہی اپنے الفاظ سے مستثنیٰ کردے کہ اس کے ساتھ ایک تتمہ بھی ہے کہ "اَبُوْہُمَاخَیْرٌمِنْہُمَا"، ان کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے۔ باقی اور کوئی اب اس سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا۔ جس کو ان کی سرداری کے دائرہ سے نکلنا ہو، وہ جنت سے استعفیٰ دے دے۔ یہ پریشانی تو بالکل دور ہوگئی۔ بے شک ان کو اُن کے مقابلہ میں ذبح عظیم کہنا درست ہے۔

 

مصنف: علامہ سید علی نقی نقن اعلی اللہ مقامہ


متعلقہ تحریریں:

فلسفہٴ خمس

 اسلام نے خمس کا حکم کیوں دیا ھے ؟

فلسفہ خمس دلایل مذھب شیعہ

خمس اھل سنت کی نظر میں

خمس مذھب شیعہ کی نظر میں