• صارفین کی تعداد :
  • 2492
  • 2/22/2011
  • تاريخ :

یہ مدینہ ہے (حصّہ ششم)

جنت البقیع

بعض مو رخین کے بیان کے مطابق ان میں سے کسی ایک کی عمر بھی 30  سال سے متجاوز نہ ہوئی۔ سب سے پہلے ام کلثوم نے جہان فانی سے رخت سفر باندھا ۔ پھر جناب رقیہ کی وفات ہوئی اور اسکے جناب زینب ،جناب فاطمہ ان تینوں بہنوں سے چھوٹی تھیں اور رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی چوتھی بیٹی تھیں ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آپکا سن اپنی بہنوں سے کم تھا ام کلثوم کی وفات ٹھیک آپ کے جنگ بدر سے ظفریاب ہو کر پلٹنے کے وقت ہوئی؛ رقیہ کی وفات ٥ یا ٦ ہجری میں جنگ خندق کے بعد ہوئی ؛جبکہ جناب زینب کی ایک الگ داستان ہے ۔

جب مسلمان خاتون کی مشرکین سے شادی کی حرمت کے سلسلہ میں آیہ نازل ہوئی تو آپ اپنے شوہر سے جدا ہو گئیں اور اپنے والد کے پاس مدینہ آ گئیں ۔

 جنگ بدر میں آپ کے شوہر ابوالعاص کو اسیر کر لیا جاتا ہے ۔ آپ نے اپنی ماں جناب خدیجہ کا وہ گردن بند جو شادی کے وقت انہوں نے اپنے گلے سے اتار کر آپ کے گلے میں باندھا تھا اپنی شوہر کی آزادی کے فدیہ کے طور پر بھیجا پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ و سلم کی نظر جب گردن بند پر پڑی تو آپکی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ آپ نے حکم دیا گردن بند کو واپس کرکے اسیر کو آزاد کر دیا جائے ۔ چنانچہ آپ کے شوہر مکہ پھر مکہ سے مدینہ واپس آ جاتے ہیں اور جناب زینب کے گھر پناہ لیتے ہیں۔ چند روز گزرنے کے بعد پیغمبر صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ جناب زینب اور آپ کو ایک دوسرے سے ملا دیتے ہیں ۔ پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کی قبور سے کچھ ہی فاصلے پر آپ کی زوجات کی قبور ہیں ۔ موجودہ منابع کے مطابق رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زوجات دار عقیل میں دفن ہیں جناب عقیل کا گھر بقیع کے نواحی علاقے میں واقع ہے آپکے گھر میں عرصہ دراز کے بعد رسول خداصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زوجات کی قبور کے کتبہ اور پتھر ملے ۔

جنت البقیع

شاید اس بات کا مقصود یہ نہیں کہ پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زوجات کو جناب عقیل کے گھر میں دفن کیا گیا ہو کیونکہ ایک طرف تو جناب عقیل کا گھر ایک چھوٹا اور محقر گھر تھا اور دوسری طرف یہ بات بھی ہے کہ خاک کی فرسودگی اور قبور کی پہلی حالت کی تخریب اس بات کا باعث ہوئی ہے کہ قبور کی موجودہ صورت حال ایک دوسرے سے بہت نزدیک ہو جائے اور پھر ایسا لگنے لگے کہ جیسے ازواج پیغمبرصلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی قبور جناب عقیل کے گھر میں ہیں اس سے ذرا آگے بڑھیں تو مالک ابن انس مذہب مالکی کے امام اور نافع الفقیہ غلام عبد اللہ ابن عمر کی قبور بقیع کے راستہ کے بائیں جانب پر حاشیہ پر واقع ہیں ۔ اسی طرح ازواج رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی قبور اور عقیل ابن ابی طالب کی قبور کی پشت پر عبداللہ بن مسعود اور حدادبن اسود کی قبور تھیں جن کا آج کوئی نام و نشان نہیں ہے ۔ یہ دونوں بزرگ صحابی حضرت علی کے حامیوں میں تھے عبداللہ بن مسعود قرآن کے بڑے حافظوں میں تھے اور بعض آیات کی تلاوت میں انکی قرات ایک خاص اسلوب کی حامل تھی آپ شاید مہر و محبت کے پہلو سے حضرت علی کے بعد پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے نزدیک صحابی تھے پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم آپکو بہت چاہتے تھے آپکو یہ اجازت حاصل تھی کہ ان مواقع کے علاوہ جب کوئی خاص ممانعت نہ ہو بغیر اجازت پیغمبر صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے میں داخل ہو جائیں ۔ چنانچہ ان سے نقل ہے کہ :

میں نے 70 سوروں کو پیغمبرصلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک لبوں سے جاری ہوتے دیکھا اور انہیں سن کر حفظ کیا ہے کوئی بھی صحابی اس فضیلت میں میرا ہمسر نہیں ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کی قبور کے ایک سمت عقیل ابن ابی طالب اور عبداللہ ابن جعفر طیار کی قبور ہیں عقیل کی وفات کے بعد ان کو انہیں کے گھر میں دفن کیا گیا ۔ آپ نابینا اور فقیر تھے بچپن میں آپ اپنے والد جناب ابوطالب کی خاص توجہ کے حامل تھے ۔ اسی زمانے میں جب مکہ میں ایک قحط پڑا تو عباس رضوان اللہ اور پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوطالب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے یہ تجویز پیش کی کہ آپ کے بچوں کو اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ آپکو اہل و عیال کے خرچ میں عسرت و تنگ دستی کا سامنا نہ ہو اور کچھ آسودگی حاصل ہو جائے ۔جناب ابوطالب نے حضرت علی کو پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کر دیا اورجناب جعفر کو جناب عباس کے حوالے کیا لیکن عقیل کو نابینا ہونے کی بنا پر اپنے ساتھ ہی رکھا ۔

جنت البقیع

جناب عبداللہ جیسا کے واضح ہے حضرت علی کے بھائی کے فرزند تھے ۔ حضرت علی نے اپنی بڑی بیٹی جناب زینب کی شادی آپ کے ساتھ کی جن سے جناب زینب کو ٤فرزند ہوئے ؛ چاروں کے چاروں کربلا میں شہید ہو گئے ۔

جناب عبداللہ ہمیشہ پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے ۔ آپکے ساتھ ساتھ ہر جگہ جاتے تھے آپ کے آگے آگے عصا ہاتھ میں لئے چلتے تھے ۔ آپ سے قبل جہاں آپ کو جانا ہوتا پہونچ جاتے تھے ۔ جس جگہ آپکو ٹھہرنا ہوتا تھا اس جگہ کی صفائی کرتے تھے۔ آپکی نعلین کو اپنے ہاتھوں میں رکھتے تھے اور آپ کے کہیں قصد کی صورت میں آپ کے سامنے انہیں جفت کرکے پیش کرتے تھے ۔

بشکریہ الحج ڈاٹ او آر جی


متعلقہ تحریریں :

پاکستان کے شہر " پشاور "  میں واقع اہم مقامات

یہ مدینہ ہے (حصّہ سوّم)

یہ مدینہ ہے (حصّہ دوّم)

یہ مدینہ ہے

کیا مغربی ممالک میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے؟