متعلقه تحریریں
  • حضرت علی اور ایک بیوہ خاتون کی مدد
    حضرت علی اور ایک بیوہ خاتون کی مدد
    ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک عورت اپنے کاندھے پرپانی کی مشک اٹھائے ہوئے لے جا رہی ہے ۔
  • پھلے امام حضرت علی علیه السلام
    پھلے امام حضرت علی علیه السلام
    امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام پھلے امام ھیں۔ آپ حضرت ابوطالب کے بیٹے ھیں جو بنی ھاشم خاندان کے معتبر فرد تھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی چچا بھی تھے
  • علي عليہ السلام کي متوازي شخصيت (حصّہ چهارم)
    علي عليہ السلام کي متوازي شخصيت...
    ايک دوسرا نمونہ جو آپ کي زندگي ميں ملتا ہے وہ ہے آپکي قدرت و شجاعت اور مظلوميت ۔آپکے زمانے ميں آپ سے زيادہ شجاع و بہادر کون ہو سکتا ہے؟
  • صارفین کی تعداد :
  • 2113
  • 2/9/2011
  • تاريخ :

حلوا کی رشوت

امام علی علیہ السلام

حضرت امام علی علیہ السلام کے کے عصرخلافت میں اشعث بن قیس خوارج اورمنافقین کے سرغنوں میں سے ایک تھا اورجناب امیر کے سلسلےمیں اپنی عداوت ودشمنی کے اظہار کا کوئي بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے دیتا تھا ۔

اس نے اپنے زعم باطل میں کوشش کی کہ ایسے کام کرے جس کی وجہ سے وہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت سے نزدیک ہوجائے اورپھر مناسب موقعوں پراپنے لئے فائدہ اٹھائے ۔ چنانچہ اس کا ایک منصوبہ جوبری طرح ناکام ہوا وہ یہ تھا کہ اس نے ایک دن بہت خوش ذائقہ اورلذيذ حلوا تیار کیا اوراس کوایک برتن میں رکھا اوراس پرایک کپڑا ڈھانک دیا اورپھر رات کی تاریکی میں وہ حلوا لے کرامام علی علیہ السلام کے پاس پہنچ گیا ۔اس نے چاہا کہ وہ ہدیہ کے طورپرامام علی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرے ( اگرچہ وہ ایک رشوت تھی لیکن وہ ہدیہ کے نام پرحضرت علی علیہ السلام کوفریب دینے کی ناکام کوشش کررہا تھا )

امام علی علیہ السلام نے اشعث کے اس ریاکارانہ عمل کے جواب میں فرمایا :

اصلہ ام زکوۃ ام صدقہ ۔۔۔آیا یہ حلوہ ہدیہ ہے یا زکوۃ ہے یا صدقہ ؟ جبکہ زکوۃ وصدقہ ہم پرحرام ہے ؛

اشعث نے کہا لاذا ولا ذاک ولکنھا ہدیۃ۔

یہ نہ تو زکوۃ ہے نہ صدقہ بلکہ ہدیہ ہے ؛

امام علی علیہ السلام نے اس مکار سے فرمایا : کیا تو دین خدا کے ذریعہ مجھے فریب دینے کی کوشش کر رہا ہے ؟ یا تیری قوت ادراک کھو چکی ہے یا تو دیوانہ ہوگیا ہے یا پھر ہذيان بک رہا ہے ؟

واللہ لوعطیت الاقالیم السبعۃ بما تحت افلاکھا علی ان اعصی اللہ فی نملہ اسبلھا جلب شعیرہ مافعلتہ ۔

((خدا کی قسم اگرساتوں اقلیم ومملکت جوآسمانوں کے نیچے ہیں مجھے ہدیے کے طور پر دی جائيں اورایک چونٹی کے منہ سے جوکے چھلکے کو چھین لینے جیسے معمولی گناہ اور اللہ کی نافرمانی کے لئے کہا جائے تومیں ہرگز ایسا نہیں کروں گا اور تیری یہ دنیا میرے نزدیک ٹڈی کے منہ میں جبائے ہوئے پتے سے بھی زیادہ کم اہمیت رکھتی ہے ))

یہ ہے ان موقع پرستوں کے مقابلے میں حضرت علی علیہ السلام کا ٹھوس موقف جو ہدیہ کی آڑمیں امیرالمومنین کورشوت دینا چاہتے تھے اوراس راستے سے وہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے امورمیں شامل ہونے کی کوشش کر رہے تھے ۔

بشکریہ آئی آر آئی بی


متعلقہ تحریریں:

پرہيز گاري اور حکومت اميرالمومنين عليہ السلام

علي عليہ السلام کي متوازي شخصيت (حصّہ دوّم)

علي عليہ السلام کي متوازي شخصيت

ولادت علی (ع) کے سلسلہ میں علماء، مؤرخین و محدثین اہل سنت کا نظریہ ( حصّہ دوّم)

ولادت علی (ع) کے سلسلہ میں علماء، مؤرخین و محدثین اہل سنت کا نظریہ