متعلقه تحریریں
  • عام حملہ
    عام حملہ
    علی علیہ السلام نے پھر نئے پرچم دار پر حملہ کیا اور و بھی اپنے گندے خون میں لوٹنے لگا۔
  • خلیفہ کا دسترخوان
    خلیفہ کا دسترخوان
    دوسری ہجری قمری کے مشہور عالم دین وفقیہ شریک بن عبداللہ اس بات کے لئے ہرگز راضی نہیں تھے کہ عباسی خلیفہ مہدی بن منصور انھیں منصب قضاوت کے مقررکرے کیونکہ شریک بن عبداللہ حکومت جور سے دور ہی رہنا چاہتے تھے ۔
  • جنگ کیسے شروع ہوئی؟
    جنگ کیسے شروع ہوئی؟
    دونوں لشکروں کے درمیان ابوعامر کی وجہ سے پہلا معرکہ ہوا وہ احد کے دن آگے بڑھتا ہوا لشکر کے مقابل گیا
  • صارفین کی تعداد :
  • 1933
  • 2/9/2011
  • تاريخ :

فتح کے بعد شکست

فتح کے بعد شکست

راہ خدا میں جہاد، رضائے خدا کا حصول اور آئین اسلام کی نشر و اشاعت کے علاوہ مجاہدین اسلام کا کوئی اور مقصد نہ تھا وہ آخری وقت تک بہادری کے ساتھ جنگ کرتے رہے اور نتیجہ میں فتح یاب ہوئے۔ لیکن فتح کے بعد بہت سے مسلمان اس مقصد سے ہٹ گئے اور ان کی نیت بدل گئی۔ قریش نے جو مال غنیمت چھوڑا تھا اس نے بہت سے لوگوں کے اخلاص کی بنیادیں ہلا دیں، انہوں نے فرمان رسول خدا اور اپنے جنگ کے مقصد کو بھلا دیا۔ دشمنوں کے تعاقب سے چشم پوشی کرکے مالِ غنیمت کی جمع آوری میں مشغول ہوگئے۔ انہوں نے اپنی جگہ یہ سوچ لیا تھا کہ کام ختم ہوگیا۔

درہ کی پشت پر جو نگہبان موجود تھے انہوں نے جب مجاہدین کو مالِ غنیمت جمع کرتے دیکھا تو جنگی حکمت عملی کے اعتبار سے اس اہم درہ کی حفاظت کی اہم ذمہ داری کو بھلا دیا اور کہا کہ: ہم یہاں کیوں رکے رہیں؟ خدا نے دشمن کو شکست دی اور اب تمہارے بھائی مالِ غنیمت جمع کر ہے ہیں۔ چلو تاکہ ہم بھی ان کے ساتھ شرکت کریں۔ عبداللہ ابن جبیر نے یاد دلایا کہ کیا رسول خدا نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اگر ہم قتل کر دیئے جائیں تو ہماری مدد نہ کرنا اور اگر ہم کامیاب ہوگئے اور مالق غنیمت جمع کرنے لگے جب بھی ہمارے ساتھ شرکت نہ کرنا اور پس پشت سے ہماری حفاظت کرتے رہنا؟ عبداللہ نے ان کو بہت سمجھایا کہ تم کمانڈر کے حکم سے سرتابی نہ کرو لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے غنیمت کے لالچ میں اپنی جگہ کو چھوڑ دیا اور اس سے دور نکل آئے عبداللہ صرف دس افاد کے ساتھ وہاں باقی رہ گئے۔

خالد بن ولید نے جو کہ دشمن کی فوج کے شہ سواروں کا سردار تھا۔ جب درہ کو خالی دیکھا تو اس نے اپنے ماتحت فوجیوں کو لے کر حملہ کر دیا اور چند بچے ہوئے تیر اندازوں پر ٹوٹ پڑا عکرمہ بن ابی جہل نے اپنی ٹولی کے ساتھ خالد بن ولید کی پشت پناہی کی، جن تیر اندازوں نے درہ نہیں چھوڑا تھا انہوں نے مردانہ وار مقابلہ کیا یہاں تک کہ ان کے ترکش کے تمام تیر خالی ہوگئے، اس کے بعد انہوں نے نیزے پھر شمشیر سے جنگ کی۔ یہاں تک کہ سب شہید ہوگئے۔

جب سپاہیانِ اسلام یہاں اطمینان کے ساتھ مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول تھے۔ اس وقت خالد بن ولید لشکر اسلام کی پشت پر تھا۔ ایک طرف مشرکین اپنے فرار کو جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس نے جنگی حکمت عملی والے اہم حصہ کو فتح کرلیا تھا وہ چلا چلا کر شکست خوردہ لشکر قریش کو مدد کی دعوت دے رہا تھا۔ اسی ہنگام میں بھاگنے والوں کی عورتوں میں ایک عورت نے کفر کے سرنگوں پرچم کو لہرا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد قریش کا بھاگا ہوا لشکر واپس آگیا اور شکست خوردہ لشکر پھر سے منظم ہوگیا۔

سپاہ اسلام افراتفری اور بدنظمی کی وجہ سے تھوڑی ہی دیر میں سامنے اور پیچھے سے محاصرہ میں آگئی اور پھر نئے سرے سے دو لشکروں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔

مسلمان حواس باختہ ہوگئے اور اس طرح وہ دشمن کے ہاتھ سے مارے گئے۔ اور بدحواسی کے عالم میں نہ پہچاننے کی بناء پر ایک دوسرے کو بھی مار دیتے تھے۔

اس غیر مساوی جنگ کے ہلڑ ہنگامہ میں جو دوبارہ شروع ہو چکی تھی ابن قمہ نے اسلام کے لشکر کے افسر مصعب بن عمیر پر حلہ کر دیا جو پیغمبر کا دفاع کر رہے تھے اور وہ خدا سے عہد و پیمان کی راہ میں اپنے خون میں غلطاں ہوگئے۔

مصعب نے لڑائی کے وقت اپنے چہرہ کو چھپا رکھا تھا تاکہ وہ پہچانے نہ جائیں۔ ابن قمہ نے سوچا کہ اس نے پیغمبر کو قتل کر دیا ہے۔ اس وجہ سے وہ چلایا کہ… اے لوگو! محمد قتل کر ڈالے گئے۔ اس خبر سے قریش اس قدر خوش تھے کہ آپس میں شور و غل مچا کر کہہ رہے تھے۔ محمد قتل ہوگئے، محمد قتل ہوگئے۔

(مغازی ج۱ ص ۲۲۹، ۲۳۲)

اس بے بنیاد خبر کا پھیلنا دشمن کی جرأت کا باعث بنا اور لشکر قریش سیلاب کی طرح امنڈ پڑا اور مشرکین کی عورتوں نے مصعب کے جسم پاک اور شہداء میں سے بہت سے افراد کے جسد اطہر کو مثلہ کر دیا۔

دوسری طرف اس خبر نے جنگ کی حالت میں مجاہدین اسلام کو بہت بڑا روحانی صدمہ پہنچایا وہ اس طرح کہ اکثر لوگوں نے ہاتھ روک لیا اور پہاڑ پر پناہ لینے کے لیے بھاگ گئے۔ بعض ایسے حواس باختہ ہوئے کہ انہوں نے یہ سوچا کہ کسی کو فوراً مدینہ میں عبداللہ بن ابی کے پاس بھیجیں تاکہ وہ واسطہ بن جائے اور قریش سے ان کے لیے امان مانگے۔ پیغمبر مسلمانوں کو اپنی طرف بلا رہے تھے۔ اور فرماتے تھے اے بندگان خدا! میری طرف آؤ۔ اے فلاں فلاں تم میری طرف آؤ۔ لیکن اس دستہ نے اپنی جان بچائی جس کے پاس ایمان نہیں تھا اور جیسے بھاگ رہا تھا ویسے ہی بھاگتا رہا۔ ان میں سے بعض پہاڑ پر بھاگتے وقت اپنے خیال میں وعدہٴ فتح سے بدگمان ہوگئے اور جاہلی افکار نے ان کا پیچھا کرنا شروع کیا بعض نے قرار پر فرار کو ترجیح دی اور مدینہ چلے گئے اور تین دن تک اپنے آپ کو چھپائے رکھا۔

عنوان : تاریخ اسلام

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

بشکریہ پایگاہ اطلاع رسانی دفتر آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی


متعلقہ تحریریں :

منافقین کی خیانت

لشکر توحید کے کیمپ میں

فیصلہ کن ارادہ

مدینہ میں تیاریاں

دشمن کے لشکر کے ٹھہرنے کی جگہ