• صارفین کی تعداد :
  • 2586
  • 2/9/2011
  • تاريخ :

پاکستان کے شہر " پشاور "  میں واقع اہم مقامات ( حصّہ دوّم )

پشاور میوزیم

پشاور میوزیم 

پشاور میوزیم  کا پرانا نام وکٹوریہ میموریل ہال تھا ۔ یہ میوزیم  پرانے شہر کے درمیان جیل برج اور ریلوے اسٹیشن سے پانچ منٹ کی مسافت  پر واقع ہے ۔ اس میوزیم کو 1905 ء میں بنایا گیا ۔ میوزیم ایک بڑے ہال پر مشتمل ہے جس کے دونوں اطراف گیلریاں ہیں ۔  میوزیم میں قدیم گندھارا تہذیب کے بارے میں  فن پارے، مہاتما بدھ کے مجسمے موجود ہیں۔  اس میوزیم میں ایک مسلم گیلری بھی قائم ہے جس میں اسلامی  تاریخی چیزیں رکھی گئی ہیں ۔

صدر بازار

یہ بازار بہت ہی صاف ستھرا ہے جس میں لمبے تاڑ کے درخت  لگاۓ گۓ ہیں ۔ یہاں پر موجود مکانات کے سامنے لان موجود ہیں جن میں گھاس اگائي گئی ہے ۔  اس علاقے میں گورنر ہاؤس، جدید ہوٹلز، اولڈ مشنری ایڈورڈ کالج، اسٹک میوزیم اور عالی شان شاپنگ سنٹر  کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیۓ معلوماتی مرکز بناۓ گۓ ہیں ۔

خالد بن ولید  باغ

یہ  باغ صدر کا دل ہے ۔ یہ ایک بہت ہی قدیم باغ  ہے جسے مغلیہ دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ درخت اس باغ کی خوبصورت اور عظمت کو اور بھی زیادہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

پشاور کلب

اس کا پرانا نام کنٹونمنٹ کلب تھا اور یہ سرسید روڈ  پر واقع ہے ۔

درہ خیبر

کوہ سلیمان پر واقع یہ خوبصورت درہ ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت کے لیۓ بےحد مشہور ہے ۔  یہ درہ افغانستان کے علاقے جمرود  سے طورخم  تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس ارد گرد افغان مہاجرین کے لیۓ کیمپ تعمیر کیۓ گۓ ہیں ۔

قلعہ جمرود

یہ پشاور سے 18 کلومیٹر کے فاصلے پر خیبر پاس کے قریب واقع ہے جسے 1823 ء میں سکھوں نے تعمیر کیا تھا ۔ مشہور سکھ جنرل ہری سنگھ کی موت اسی مقام پر ہوئی تھی اور انہیں اسی جگہ پر دفن کیا گیا ۔

درہ آدم خیل

یہ درہ پشاور  کے جنوب میں کوہاٹ جانے والی شاہراہ سے 42 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔   یہاں پر دیسی ساخت کا اسلحہ تعمیر کیا جاتا ہے ۔ اس کا اصل نام  " زرغون خیل  " ہے ۔

                      

تحریر  و ترتیب : سید اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں :

یہ مدینہ ہے (حصّہ دوّم)

یہ مدینہ ہے

کیا مغربی ممالک میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے؟

منہ زوري کے نتائج

امریکي اہداف