متعلقه تحریریں
  • خلیفہ کا دسترخوان
    خلیفہ کا دسترخوان
    دوسری ہجری قمری کے مشہور عالم دین وفقیہ شریک بن عبداللہ اس بات کے لئے ہرگز راضی نہیں تھے کہ عباسی خلیفہ مہدی بن منصور انھیں منصب قضاوت کے مقررکرے کیونکہ شریک بن عبداللہ حکومت جور سے دور ہی رہنا چاہتے تھے ۔
  • جنگ کیسے شروع ہوئی؟
    جنگ کیسے شروع ہوئی؟
    دونوں لشکروں کے درمیان ابوعامر کی وجہ سے پہلا معرکہ ہوا وہ احد کے دن آگے بڑھتا ہوا لشکر کے مقابل گیا
  • منافقین کی خیانت
    منافقین کی خیانت
    رسول خدا صبح سویرے شیخان سے احد کی طرف (۶ کلومیٹر مدینہ سے) روانہ ہوئے۔ مقام شوط پر عبداللہ بن ابی بن سلول منافقین کا سرغنہ اپنے چاہنے والے تین سو افراد کے ساتھ مدینہ لوٹ گیا
  • صارفین کی تعداد :
  • 1674
  • 2/8/2011
  • تاريخ :

عام حملہ

عام حملہ

علی علیہ السلام نے پھر نئے پرچم دار پر حملہ کیا اور و بھی اپنے گندے خون میں لوٹنے لگا۔ رسول خدا کے حکم سے عام حملہ شروع ہوا مجاہدین اسلام ایسی شجاعت سے لڑ رہے تھے جن کی تعریف بیان سے باہر ہے۔ اور اسی درمیان چند افراد جیسے علی، حمزہ اور ابودجانہ بے خونی کی عظیم مثال تاریخ بشریت میں ثبت کرتے جا رہے تھے۔ سپاہ دشمن پر بجلیاں گرا رہے تھے ان کی تمام ت کوشش یہ تھی کہ پرچم داروں کے پیر اکھاڑ دیں، جنگ زیادہ تر اسی حصہ میں ہو رہی تھی اس لیے کہ اس زمانہ میں پرچم کا سرنگوں ہو جانا شکست کے برابر اور خاتمہٴ جنگ سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے مشرکین کے پرچم دار اپنی انتہائی شجاعت کا مظاہرہ کر رہے تھے اور بنی عبدالدار کے قبیلہ کے افراد نہایت غیظ و غضب کے عالم میں اپنے پرچم دار کے اردگرد جنگ کر رہے تھے اور جب کوئی پرچم دار قتل ہو جاتا تھا تو احتیاطی فوجیں بلافاصلہ جلدی سے بڑھ کر پرچم کھول دیتی تھیں اس درمیان دشمن کے شہ سواروں نے تین مرتبہ سپاہیان اسلام کے محاصرہ کو توڑنا چاہا اور ہر بار عبداللہ بن جبیر کے لشکر نے مردانہ وار نہایت بہادری اور تیر اندازی کے ذریعہ ان کو پیچھے دھکیل دیا۔

علی علیہ السلام کی تلوار، حمزہ کی دلیری اور عاصم بن ثابت کی تیر اندازی سے ”بنی عبدالدار“ کے پرچم داروں میں سے نو افراد یکے بعد دیگرے قتل ہو گئے تھے رعب و وحشت نے مشرکین کے سپاہیوں کو گھیر رکھا تھا۔ آخری بار انہوں نے صواب نامی غلام کو پرچم دیا۔ صواب سیاہ چہرہ اور وحشت ناک ہیولے کے ساتھ پیغمبر کی طرف بڑھا آنکھیں سرخ تھیں اور منہ سے کف جاری تھا۔ لیکن علی علیہ السلام نے اس پر حملہ کیا اور تلوار کی ایسی ضربت اس کی کمر پر لگائی کہ وہ ڈھیر ہوگیا۔

مسلمانوں نے مشرکین کی صفوف کو درہم برہم کر دیا وہ عورتیں، جو دف بجا رہی تھیں اور گانے گا رہی تھیں، دف پھینک کر پہاڑوں کی طرف بھاگیں، مشرکین کے لشکر میں فرار اور شکست کے آثار رونما ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان میں سے زیادہ تر لوگ بھاگ گئے اور اس طرح جنگ کا پہلا مرحلہ مشرکین کی شکست اور مجاہدین اسلام کی کامیابی پر تمام ہوا۔

عنوان : تاریخ اسلام

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

بشکریہ پایگاہ اطلاع رسانی دفتر آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی


متعلقہ تحریریں :

لشکر توحید کے کیمپ میں

فیصلہ کن ارادہ

مدینہ میں تیاریاں

دشمن کے لشکر کے ٹھہرنے کی جگہ

عباس کی رپورٹ