• صارفین کی تعداد :
  • 2152
  • 9/18/2010
  • تاريخ :

انسان اور توحید تک رسائی

الله

ایک روحانی نظام اور ایک ارتقائی اور انسانی جہت میں انسان کو حقیقت وجودی کا وحدانیت تک پہنچنا اسی طرح ارتقاء و تکامل سے ہم آہنگ ایک اجتماعی نظام میں انسانی معاشرہ کا وحدت و یگانگت تک پہنچنا اور اس کے مقابلے میں انسان کی انفرادی شخصیت کا مختلف محوروں میں بٹ جانا اور غیر موزوں شعبوں میں اس کی حقیقت وجودی کا ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا نیز انسانی معاشرے کا متضاد‘ متناقض اور غیر موزوں اناؤں‘ گروہوں اور طبقوں میں بٹ جانے کا تعلق ایسے مسائل سے ہے جنہوں نے ہمیشہ فکر بشری کو اپنی جانب متوجہ کئے رکھا ہے۔

انسان کی شخصیت کی وحدت و یگانگت یعنی توحید تک رسائی کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ اس مقام پر تین طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں۔ مادہ پرستانہ (Materialistic Theory)‘ تصوریت (Idealistic Theory) کا نظریہ اور حقیقت پسندانہ نظریہ (Realistic Theory)۔

اب ہم ان کے بارے میں ایک ایک کر کے گفتگو کرتے ہیں:

(الف) مادیت (Materialism)

اس نظریے کا کہ جو صرف مادے کے بارے میں سوچتا اور روح کے لئے کسی قسم کی بنیادی حیثیت کا قائل نہیں ہے۔ مدعا یہ ہے کہ جو چیز ایک انسان کو روحانی اعتبار سے اور انسانی معاشرے کو اجتماعی لحاظ سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے اور غیر موزوں جہات میں تبدیل کر دیتی ہے‘ وہ انسان (مالکیت) کے ساتھ اشیاء کا خاص رشتہ ہے۔ یہ اشیاء ہی ہیں جو انسان کے ساتھ اپنے خاص تعلق کی بناء پر‘ اسے انفرادی و روحانی لحاظ سے اور اجتماعی اعتبار سے منتشر کر دیتی ہیں۔ انسان ایک مدنی الطبع وجود ہے۔ ابتدائے تاریخ سے ہی انسان اجتماعی صورت میں زندگی گزارتا رہا ہے۔ کوئی ذاتی انا موجود نہیں تھی‘ یعنی اسے اپنی انا کا احساس نہیں تھا بلکہ اجتماعی حیثیت کا احساس تھا۔ وہ اپنے انفرادی وجود سے بے خبر تھا لیکن اپنے اجتماعی وجود کی معرفت ضرور رکھتا تھا۔ اس کا درد‘ اجتماع کا درد تھا اور اس کا احساس بھی معاشرے کا احساس تھا‘ وہ معاشرے کے لئے جیتا تھا نہ کہ اپنے لئے۔ اس کا ضمیر اور وجدان بھی اجتماعی اور معاشرتی تھا نہ کہ انفرادی۔ انسان ابتدائے تاریخ سے ہی اشتراکی زندگی کا حامل تھا‘ اسی لئے وہ ایک اجتماعی روح اور احساس کے ساتھ زندگی گزارتا تھا۔ اس کی زندگی شکار کے ساتھ گزرتی۔ ہر شخص سمندر اور جنگل سے اپنی احتیاج اور ضرورت کے مطابق ہی روزی حاصل کرتا تھا۔ اضافی پیداوار کا وجود نہیں تھا۔ یہاں تک کہ انسان نے زراعت کے میدان میں قدم رکھا اور اضافی پیداوار کا امکان فراہم کیا‘ جس کے نتیجے میں ایک گروہ کے لئے کام کرنے کا موقع فراہم ہو گیا‘ جب کہ دوسرے گروہ کے لئے کام نہ کرنے اور مفت خوری کی راہ ہموار ہو گئی اور یہی چیز اصول مالکیت کو جنم دینے کا موجب بن گئی۔ مخصوص مالکیت کے اصول نے یا دوسرے الفاظ میں کسی خاص گروہ کی دولت و ثروت (یعنی پانی اور زمین جیسے پیداواری ذرائع اور گائے اور آہن جیسے پیداواری وسائل) کے ساتھ مخصوص تعلق نے اجتماعی روح کو تباہ کر دیا اور ایک متحد معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ ایک حصہ صاحب مال و ثروت اور منافع خور اور دوسرا محروم‘ نفع دینے والا اور زحمت کش‘ یوں جو معاشرہ اجتماعی حقیقت کا حامل تھا وہ مختلف اناؤں میں تقسیم ہو گیا اور پھر انسان اپنے ہی اندر سے مالکیت کے وجود میں آنے سے اپنی حقیقی خودی کو کہ جو ایک اجتماعی خودی تھی اور اپنے آپ کو بعینہ دوسرے انسانوں کی مانند تصور کرتی تھی‘ کھو بیٹھا اور اپنے آپ کو "انسان" سمجھنے کی بجائے "مالک" سمجھنے لگا۔ یوں وہ اپنے آپ سے بیگانہ ہو گیا اور زوال پذیر ہونے لگا۔

صرف اسی قید اور رشتے کو ختم کرنے سے انسان ایک بار پھر اخلاقی ہم آہنگی اور روحانی سکون کے ساتھ ساتھ اجتماعی وحدت و سلامتی کی طرف لوٹ سکتا ہے اور تاریخ کی جبری حرکت بھی انہی وحدتوں کی جانب ہے۔

اس نظریے کے مطابق جن مالکیتوں نے انسانی وحدت کو کثرت میں بدلا اور اس کی اجتماعی حیثیت کو پارہ پارہ کر دیا ہے وہ ان کنگروں کی مانند ہیں جنہیں مولانا روم اپنی خوبصورت مثل میں لائے ہیں یعنی جنہوں نے سورج کے واحد و منبسط نور کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور سایوں کی پیدائش کا منشاء بن گئے‘ البتہ مولانا روم کی یہ مثل ایک عرفانی حقیقت پر دلالت کرتی ہے یعنی وحدت سے کثرت کا ظہور اور کثرت کی وحدت کی طرف بازگشت لیکن کچھ تاویل و تحریف کے بعد اسے مارکسیزم کے نظریے کے لئے ایک تمثیل قرار دیا جاتا ہے۔

ذیل کے اشعار میں یہی تمثیل بیان کی گئی ہے:

منبسط بودیم ھمچون آفتاب

بی سر و بی پا بودیم آن سرھمہ

یک گہر بودیم ھمچون آفتاب

بی گرہ بودیم و صفای ھمچو آب

چون بہ صورت آمد آن نور سرہ

شد عدد چون سایہ ھای کنگرہ

کنگرہ ویران کنید از منجنیق

تا رود فرق ازمیان این فریق

بشکریہ اسلام ان اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

توحید ذاتی

توحید پر دلیلیں