• صارفین کی تعداد :
  • 2518
  • 10/11/2009
  • تاريخ :

جہاد ( حصّہ دوّم )

بسم الله الرحمن الرحیم

اسلامی ثقافت کا ایک نمایاں نکتہ جس کا نمایاں مصداق صدر اسلام میں کچھ زیادہ اور بعد کی تاریخ میں بہت کم نظر آتا ہے، جہاد و عسکریت کی ثقافت ہے۔ جہاد کے معنی صرف میدان کارزار میں اتر جانا ہی نہیں ہے۔ دشمن کے مقابلے میں ہر کوشش جہاد سے عبارت ہے۔ بہت ممکن ہے کہ بعض افراد کوئی کام انجام دیں اور اس کے لئے جد و جہد بھی کریں لیکن اس پر جہاد کا لفظ کا اطلاق نہ ہو۔ اس لئے کہ جہاد کی ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ دشمن کے مقابلے میں انجام دیا جائے۔ کبھی تو یہ مقابلہ میدان جنگ میں مسلحانہ طور پر ہوتا ہے، کبھی یہ مقابلہ میدان سیاست میں انجام پاتا ہے جو "سیاسی جہاد" کہلاتا ہے، کبھی ثقافتی امور کے سلسلے میں انجام پاتا ہے جو "ثقافتی جہاد" کہا جاتا ہے، کبھی تعمیراتی شعبے میں انجام پاتا ہے اور "تعمیراتی جہاد" کہلاتا ہے۔ اسی طرح جہاد دوسرے میدانوں میں دوسرے ناموں سے بھی انجام دیا جاتا ہے۔ بنابریں معیار میدان جنگ اور شمشیر زنی نہیں ہے بلکہ معیار مقابلہ ہے۔ مقابلے میں بھی دو لازمی شرطیں ہیں ایک تو جد و جہد کا ہونا اور دوسرے "دشمن" کے مقابلے میں انجام پانا۔

جہاد میں دوسروں کے حقوق پر دست درازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جہاد میں بہانے بازی اور (عبث) قتل و غارتگری کی گنجائش نہیں، جہاد میں یہ نہیں ہوتا کہ جو بھی مسلمان نہیں اسے تہہ تیغ کر دیا جائے، جو بھی دین اسلام قبول نہ کرے اس کے ساتھ سختگیر رویہ رکھا جائے۔

سختگیری ایسے لوگوں کے ساتھ کی جانی چاہئے جو مسلم اقوام کی شناخت و تشخص، اسلام پسندی، خود مختاری، ناموس، ثقافت، ارضی سالمیت اور اقدار سے بر سر پیکار ہوں۔ اس سلسلے میں جہاد، حکم الہی کا درجہ رکھتا ہے جس کی بدولت قوموں کو سربلندی حاصل ہوتی ہے۔

اسلامی انقلاب نے ہماری قوم کو جہاد کی ثقافت عطا کی۔ جہاد کی ثقافت ہر شعبے اور ہر موقع پر کارگر ثابت ہوتی ہے۔ اوائل انقلاب سے ہی زراعت اور جانوروں کی پروش سے متعلق بنیادی کاموں میں جہادی ثقافت شامل ہو گئی۔ کیونکہ انقلاب نے ایسی تنظیمیں پیدا کر دی تھیں جن کی ماہیت انقلابی جوش وجذبے اور جہاد و سرعت عمل سے عبارت تھی۔

http://urdu.khamenei.ir


متعلقہ تحریریں:

اسلام اور وھابی ازم

امریکن کی مساجد

مصر کی مساجد

یورپ کی مساجد