• صارفین کی تعداد :
  • 1703
  • 10/11/2009
  • تاريخ :

جون ایلیا

جون ایلیا

وجہ شہرت ادیب
تخلص  جون
ولادت 14 دسمبر، 1937ء امروہہ
وفات 8 نومبر، 2002ء کراچی
اصناف ادب شاعری نثر
ذیلی اصناف غزل، نظم
تصنیف اول شاید
معروف تصانیف شاید، یعنی

 

زندگی نامہ :

علامہ جون ایلیا (14 دسمبر، 1937ء – 8 نومبر، 2002ء) برصغیر ‏میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار ‏اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے ‏تھے۔ وہ معروف صحافی رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے ‏بھائی، اور مشہور کالم نگار زاہدہ حنا کے سابق خاوند تھے۔ جون ایلیا کو ‏عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلی مہارت ‏حاصل تھی۔

سوانح:

جون ایلیا 14 دسمبر، 1937ء کو امروہہ، اتر پردیش کے ایک ‏نامور خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد، علامی شفیق حسن ایلیا کو فن ‏اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پر کی۔ انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طراز ہیں:‏

‏"میری عمر کا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اور ماجرا پرور سال تھا۔ اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے۔ پہلا حادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا۔ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا:‏

 

چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی"

 

جون اپنے لڑکپن میں بہت حساس تھے۔ ان دنوں ان کی کل ‏توجہ کا مرکز ایک خیالی محبوب کردار صوفیہ تھی، اور ان ‏کے غصے کا نشانہ متحدہ ہندوستان کے انگریز قابض تھے۔ وہ ‏ابتدائی مسلم دور کی ڈرامائی صورت میں دکھاتے تھے جس ‏وجہ سے ان کے اسلامی تاريخ کے علم کے بہت سے مداح ‏تھے۔ جون کے مطابق ان کی ابتدائی شاعری سٹیج ڈرامے کی ‏مکالماتی فطرت کا تاثر تھی۔

ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے۔ یہ مدرسہ دار ‏العلوم، دیوبند سے منسلک تھا۔ سعید کہتے ہیں، "جون کو زبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔"‏

پاکستان آمد:

اپنی جوانی میں جون کمیونسٹ خیالات رکھنے کی وجہ سے ‏ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے لیکن بعد میں اسے ایک ‏سمجھوتہ کے طور پر قبول کر لیا۔ ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی ‏عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔

جون ایلیا کی کتاب شاید کا ان کی تصویر والا سرورق:

جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی۔ ‏نیازمندا کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اور فوضوی تھے۔ ان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

جون ایلیا تراجم، تدوین اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے۔ لیکن ان کے تراجم اور نثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں۔ ‏

فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی ‏انسائکلو پیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تاکہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔

ازدواجی زندگی:

جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور انتھک مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا ایک اپنے انداز کی ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور اب بھی دو روزناموں، جنگ اور ایکسپریس، ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کر ‏دی۔

وفات:

جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کر ‏گئے۔


متعلقہ تحریریں :

فیض احمد فیض

احمد فراز