• صارفین کی تعداد :
  • 2208
  • 10/5/2009
  • تاريخ :

ہندی اردو تنازعات اور معروضی حقائق کی روشنی میں (حصّہ سوّم)

لسانیات

یہ ایک لسانیاتی حقیقت ہے کہ ہر زبان اولاً محض ایک ’بولی‘(Dialect) ہوتی ہے جس کا دائرۂ اثرورسوخ ایک چھوٹے سے علاقے یا خطے تک محدود ہوتاہے۔ جب یہی بولی بعض ناگزیر اسباب اور تقاضوں کے ماتحت جن میں سیاسی، سماجی اور تہذیبی وثقافتی تقاضے شامل ہیں، اہم اور مقتدر بن جاتی ہے اور اس کا چلن عام ہوجاتاہے اور یہ اپنی علاقائی حد بندیوں کو توڑ کر دور دراز کے علاقوں میں اپنا سکہ جمانے لگتی ہے تو ’زبان‘ کہلاتی ہے۔ پھر اس کا استعمال ادبی نیز دیگر مقاصد کے لیے ہونے لگتاہے اور اس کی معیار بندی (Standardisation) بھی عمل میں آتی ہے جس سے یہ ترقی یافتہ زبان کے مرتبے تک پہنچ جاتی ہے۔ا ردو جو ایک ترقی یافتہ اور معیاری زبان ہے، اس کی کُنہ میں یہی کھڑی بولی ہے اور یہی اس کی بنیاداور اصل واساس ہے۔ ہند آریائی لسانیات کی روشنی میں یہ بات نہایت وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اردو کھڑی بولی کی ہی کوکھ سے پیداہوئی ہے بعد میں اس پر نواحِ دہلی کی دوسری بولیوں کے اثرات پڑے ۔ یہ ایک تاریخی اور لسانی حقیقت ہے کہ کھڑی بولی کے اس نئے اور نکھرے ہوئے روپ کو سب سے پہلے نووارد مسلمانوں اور ان کے بعد کی نسلوں نے اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ اسے نکھارا، سنوارا اور جِلا بخشی جس سے یہ زبان اس لائق بن گئی کہ اسے ادبی مقاصد کے لیے استعمال کیاجاسکے، چنانچہ اس زبان کا ادبی استعمال بھی سب سے پہلے مسلمانوں نے ہی کیا۔

چوں کہ کھڑی بولی کا اردو کے ساتھ ماں اور بیٹی کا رشتہ ہے اور کھڑی بولی شورسینی اپ بھرنش سے پیدا ہوئی ہے، لہٰذا اس رشتے کی وجہ سے اردو ایک ہند آریائی زبان قرار پاتی ہے۔ کھڑی بولی کا براہِ راست تعلق شورسینی اب بھرنش یا مغربی اپ بھرنش سے ہے جو وسطی ہند آریائی دور (۵۰۰ قبلِ مسیح تا ۱۰۰۰ سنہِ عیسوی) کی آخری یادگار ہے۔ شورسینی اپ بھرنش (مغربی اپ بھرنش) بشمولِ دہلی اور پنجاب شمالی ہندوستان کے ایک وسیع علاقے میں رائج تھی۔ ۱۰۰۰ سنہِ عیسوی تک پہنچتے پہنچتے اس نے دم توڑدیا اور اس کے بطن سے متعدد بولیاں معرضِ وجود میں آئیںجو انھیں علاقوں میں رائج ہوئیں جہاں شورسینی اپ بھرنش بولی جاتی تھی۔ انھیں بولیوں میں سے ایک بولی ’کھڑی بولی‘ کہلائی جس کا ارتقا دہلی اور دہلی کے شمال مشرقی علاقے یعنی مغربی اترپردیش (مغربی یوپی) میں ہوا جس نے بعد میں نکھرکر ایک نیا روپ اختیار کرلیا۔ کھڑی بولی کا یہی نیا اور نکھرا ہوا روپ ’’ہندی‘‘ اور ’’ہندوی‘‘ کہلایا جو ہماری آج کی ’’اردو‘‘ کے قدیم نام ہیں۔ شورسینی اپ بھرنش سے پیدا ہونے والی دیگر بولیاں ہریانوی، برج بھاشا، بندیلی اور قنوجی ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں رائج ہوئیں۔

جارج گریرسن نے اپنےLinguistic Survey of India =(لسانیاتی جائزہ ہند) میں ان پانچوں بولیوں کو’’ مغربی ہندی‘‘ کے نام سے موسوم کیاہے۔ مغربی ہندی کسی مخصوص زبان کا نام نہیں، بلکہ انھیں پانچوں بولیوں کے مجموعے کا نام ہے۔ ان کے علاوہ پنجابی اور گجراتی زبانوں کا تعلق بھی شورسینی اپ بھرنش ہے کہ یہ زبانیں بھی ۱۰۰۰ سنہِ عیسوی کے بعد شورسینی اپ بھرنش کی کوکھ سے پیدا ہوئی ہیں۔

کھڑی بولی کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اسماء، ضمائر، صفات اور افعال بالعموم طویل مصوتے -a یعنی]ا[ پرختم ہوتے ہیں، مثلا لڑکا، بیٹا (اسم)، میرا (ضمیر)، بڑا (صفت)، آیا، گیا (فعل)۔ ذیل کے دونوں جملے کھڑی بولی کے ہیں:

۱۔  ساون آیا۔

۲۔  میرابڑا بیٹا دلّی گیا۔

چوں کہ لسانیاتی اعتبار سے اردو نے کھڑی بولی کا ڈھانچا اختیار کیا ہے، لہٰذا اس خصوصیت کی بنا پر یہ دونوں جملے اردو کے جملے بھی کہے جائیں گے۔ اس کے علی الرغم شورسینی اپ بھرنش کی ایک دوسری بولی برج بھاشا میں، جس کا ارتقا دہلی کے جنوب مشرقی علاقے (متھرا، آگرہ، وغیرہ) میں ہوا، اسما، ضمائر، صفات اور افعال بالعموم ایک دوسرے مصوتے -o یعنی(و) پر ختم ہوتے ہیں، مثلاً لڑکو، بیٹو،  میرو، بڑو، آیو، گیو، و غیرہ۔ کھڑی بولی کے مذکورہ دونوں جملے برج بھاشا میں یوں ادا کیے جائیں گے:

۱۔  ساون آیو۔

۲۔  میرو  بڑو  بیٹو  دلّی  گیو۔

پروفیسر  مرزا خلیل احمد بیگ


متعلقہ تحریریں:

اردو زبان کے  مختلف نام اور مراحل

اردو زبان کا نام اور مجمل تاریخ

اردو ہے جس کا نام