متعلقه تحریریں
  • يورپ کي موجودہ تمدن کي بنياد
    يورپ کي موجودہ تمدن کي بنياد
    يورپ کے موجودہ تمدن کي بنياد، روم کي قديمي تہذيب و ثقافت پر قائم ہے۔ يعني يورپ و مغرب اور اُس کے ذيل ميں امريکي تہذيب و ثقافت پر سرسے پير تک جو چيز مسلط و حاکم ہے
  • اسلامي جمہوريہ ايران ميں خواتين کي ترقي
    اسلامي جمہوريہ ايران ميں خواتين کي...
    ہمارے معاشرے ميں تعليم يافتہ،مسلمان اورباايمان خواتين کي تعداد بہت زيادہ ہے جو يا تحصيل علم ميں مصروف ہيں يا ملکي جامعات ميں اعليٰ درجے کے علوم و فنون کو بڑے پيمانے پر تدريس کررہي ہيں
  • خواتين، معاشرہ اور حجاب!
    خواتين، معاشرہ اور حجاب!
    ميں نے ايک بين الاقوامي فورم ميں بہت ہي اہم اور معروف تقرير ميں خاندان اور گھرانے سے متعلق گفتگوکي۔
  • صارفین کی تعداد :
  • 2680
  • 9/27/2009
  • تاريخ :

اسلامی تہذیب و تمدن

اسلامی تہذیب و تمدن

اسلام میں روز اول سے ہی شروع ہونے والی علمی تحریک کی برکت سے اسلامی تہذیب و تمدن کو وجود ملا۔ اسلام کے ظہور کو ابھی دو صدیاں بھی نہیں گزری تھیں کہ اسلام کی برق رفتار علمی تحریک شروع ہو گئی، وہ بھی اس دور کے ماحول میں۔ اگر آپ اس وقت کی علمی تحریک کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو دنیا کے موجودہ علمی مراکز کو پیش نظر رکھئے اور پھر فرض کیجئے کہ کوئی ملک دنیا کے کسی دور دراز کے علاقے میں واقع ہے جو تہذیب و تمدن سے پوری طرح بے بہرہ ہے۔ یہ ملک یک بیک تہذیب و تمدن کے میدان میں وارد ہو اور سو یا ڈیڑھ سو سال کے عرصے میں علمی لحاظ سے تمام تہذیبوں پر فوقیت حاصل کر لے۔ یہ چیز کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ اسلام نے علم، حصول علم، تعلیم و تدریس اور عالمانہ طرز زندگی کی بے پناہ ترغیب دلائی۔

اسلامی تہذیب کا جوہر خود اس (دین اسلام) کے اندر سے نکلا۔ ویسے زندہ تہذیبیں دوسروں سے بھی کچھ چیزیں کسب کرتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پر رونق دنیا، علم کا یہ استعمال، عالم ہستی کے اچھوتے رموز کا یہ انکشاف جو مسلمانوں کے ہاتھوں انجام پایا۔ افکار و نظریات اور اذہان و افکار کا یہ استعمال، عظیم علمی سرگرمیاں اور اس دور میں عالمی سطح کے تعلیمی مراکز کا قیام، اس زمانے میں دسیوں دولتمند ممالک کی تشکیل اور ایک بے نظیر طاقتور سیاسی نظام کا قیام، یہ سب کیونکر ممکن ہوا؟ آپ پوری تاریخ میں اسلام کے علاوہ کوئی ایسی سیاسی طاقت نہیں پائیں گے جس کی قلمرو قلب یورپ سے لیکر قلب بر صغیر تک پھیلی ہوئی ہو اور یہ (پورا علاقہ) ایک ملک بن گیا ہو اور اس میں ایک پائيدار حکومت قائم ہوئی ہو۔ قرون وسطی کا زمانہ یورپ کی جہالت و بد بختی کا زمانہ تھا۔ یورپ والے قرون وسطی کو سیاہی و تاریکی کا دور کہتے ہیں۔ یہی قرون وسطی کا زمانہ جو یورپ میں تاریکی و جہالت کا دور تھا ایران سمیت اسلامی ممالک میں علم و دانش کی ضوفشانی کا زمانہ تھا۔ وہ (بے مثال) سیاسی طاقت، وہ علمی دبدبہ، وہ نظام مملکت، وہ تمام تعمیری و حیاتی و فعال عناصر سے بھرپور استفادہ، اسلامی تعلیمات کا ہی نتیجہ تھا۔

http://urdu.khamenei.ir


متعلقہ تحریریں :

قرآن و حديث کي روسے عالم اسلام کي بيداري کي ضرورت

اسلام  میں طلاق